محکمہ تعلیم صوبہ سندھ نے 2009 میں ایک تھرڈ پارٹی سندھ یونیورسٹی ٹیسٹنگ سینٹر سے ٹیچرس بھرتی کے
لیے ایک ٹیسٹ کراویا گیا جس کے بعد بھرتی کا عمل شروع کیا گیا تقریبا 8000 سے زائد پی ایس ٹی ,جی ایس ٹی اور ایچ ایس ٹی ٹیچرس بھرتی کیے گیے.2012 میں سندھ اسیمبلی نے کانٹریکٹ پہ بھرتی سندھ یونیورسٹی ٹیسٹ پاس ٹیچرس کو ریگیولر کرنے کا بل پاس کیا اس بل کے مطابق صرف کراچی ڈویزن کے لاڈلے ٹیچرس کو ریگیولر کیا گیا اور باقی سندھ کے اور اضلاع کو کانٹریکٹ پہ کا چھوڑدیا گیا.2018 میں سندھ اسیمبلی نے ایک بار پھر بل پاس کیا مگر آج تک کسی بھی سندھ یونیورسٹی ٹیسٹ پاس ٹیچر کو کنفرم نہیں کیا گیا افسوس جس سندھ اسیمبلی نے سب سے پہلے پاکستان بننے کی قرارداد اکثریت راء سے پاس کی تھی آج اس اسیمبلی کے بل کو کوئی حیثیت نہیں دی جا رہی نو سالوں سے کانٹریکٹ پہ کام کرنے والے ٹیچرس اب اس پریشانی میں مبتلا ہیں کہیں گورنمنٹ اپنی نااھلی چھپانے کے بھانے ٹیچرس کو فارغ نہ کردے
حالانکہ جو ٹیچرس بعد میں بھرتی ہوئے وہ سب ریگیولر ہو چکے ہیں
ہم چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان سے اپیل کرتے ہیں سندھ یونیورسٹی ٹیسٹ پاس ٹیچرس کو ریگیولر نہ کرنے کا نوٹیس لے اور ان سب کے خلاف کاروائی کی جائے جو اس عمل میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں
Comments
Post a Comment